پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی اور حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ترجمان کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران مختلف ممالک کے درمیان ہونے والے حملوں نے پورے خطے کو ایک نازک مرحلے پر پہنچا دیا ہے جس کے باعث عالمی برادری کو فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے ایران کے خلاف ہونے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی خودمختار ملک کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں خطے میں امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف علاقائی استحکام کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق تنازعات کے پرامن حل کا حامی رہا ہے۔
اسی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان نے ایران کی جانب سے سعودی عرب، بحرین، اردن، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حملوں کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان کے مطابق کسی بھی ملک پر حملہ یا جارحیت قابل قبول نہیں اور اس طرح کے اقدامات خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ پاکستان نے ان تمام ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ خطے کے امن و استحکام کے لیے تمام ممالک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح اور متوازن ہے۔ پاکستان ہر اس اقدام کی مخالفت کرتا ہے جو خطے میں جنگ یا مزید کشیدگی کا باعث بنے۔ پاکستان کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال میں تمام فریقین کو تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ تنازعات کا پرامن حل نکالا جا سکے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے گزشتہ روز ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ اس گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے رمضان المبارک کی مبارکباد کا تبادلہ کیا اور موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے ایران کی قیادت کے ساتھ اظہار تعزیت بھی کیا اور حالیہ واقعات میں ہونے والے جانی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا۔ ترجمان کے مطابق پاکستان نے واضح کیا کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات میں دو پاکستانی شہری بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان شہریوں کی میتیں پاکستانی سفارت خانے کی مدد سے وطن منتقل کر دی گئی ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ایسے حالات میں ان کی مدد کے لیے فوری اقدامات کیے جاتے ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق خطے میں موجود پاکستانی شہریوں کی مدد کے لیے وزارت خارجہ کا کرائسس مینجمنٹ یونٹ چوبیس گھنٹے فعال ہے۔ اس یونٹ کا مقصد بیرون ملک موجود پاکستانیوں کو ہنگامی حالات میں فوری مدد فراہم کرنا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ اس کے علاوہ مختلف ممالک میں قائم پاکستانی سفارت خانوں میں خصوصی سہولت ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں جہاں پاکستانی شہری معلومات اور مدد حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان نے حالیہ صورتحال کے پیش نظر متعدد سفارتی رابطے بھی کیے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے خطے اور دنیا کے کئی اہم رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں۔ ان ممالک میں سعودی عرب، قطر، اردن، بحرین، عمان، ترکیہ اور آذربائیجان سمیت دیگر دوست ممالک شامل ہیں۔ ان رابطوں کا مقصد خطے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں کو فروغ دینا اور کشیدگی کم کرنے کے لیے تعاون حاصل کرنا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں سفارتکاری اور مذاکرات ہی وہ واحد راستہ ہیں جو خطے کو کسی بڑے بحران سے بچا سکتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جنگ اور تصادم مسائل کا حل نہیں بلکہ ان سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی لیے پاکستان عالمی برادری سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔
بریفنگ کے دوران ایک اور اہم معاملے پر بھی پاکستان نے تشویش کا اظہار کیا۔ ترجمان نے بتایا کہ کینیڈا اور بھارت کے درمیان طویل المدتی یورینیم سپلائی معاہدے پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے معاہدے عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور خطے میں اسٹریٹجک توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا پہلے ہی حساس سیکیورٹی صورتحال کا شکار ہے اور ایسے اقدامات خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کو تیز کر سکتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق عالمی برادری کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری مواد اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بریفنگ کے اختتام پر کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے اور دنیا میں امن کے فروغ کے لیے کردار ادا کرتا رہا ہے اور مستقبل میں بھی یہ کوششیں جاری رہیں گی۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ عالمی تنازعات کو طاقت کے بجائے بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری کریں۔ پاکستان کا خیال ہے کہ اگر تمام ممالک ذمہ داری اور بردباری کا مظاہرہ کریں تو موجودہ کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے اور خطے کو ایک بڑے بحران سے بچایا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کا بنیادی مقصد خطے میں امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی پاکستان اسی پالیسی پر قائم ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر خطے کو امن کی طرف لے جانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے