سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ اجلاس میں سندھ کے فائر فائٹنگ اور ایمرجنسی رسپانس نظام کو جدید بنانے کے لیے 33.7 ارب روپے کے بڑے منصوبے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس فیصلے کو صوبے میں شہری تحفظ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
منصوبے کے تحت جدید فائر فائٹنگ گاڑیاں، ریسکیو آلات، تربیتی پروگرامز اور انفراسٹرکچر کی بہتری شامل ہے تاکہ بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ اضلاع کی سطح پر بھی فوری اور مؤثر امدادی کارروائیاں ممکن بنائی جا سکیں۔ حکام کے مطابق اس اپ گریڈیشن سے آگ لگنے کے واقعات اور دیگر ہنگامی صورتحال میں ردعمل کا وقت نمایاں طور پر کم ہوگا۔
کابینہ نے اس کے ساتھ ایک نئے Early Warning Public Alert System کے قیام کی بھی منظوری دی، جس کے ذریعے شہریوں کو قدرتی آفات، آگ لگنے کے واقعات یا دیگر خطرات کے بارے میں بروقت آگاہ کیا جا سکے گا۔ یہ نظام جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کام کرے گا اور موبائل الرٹس، سائرنز اور دیگر ذرائع کے ذریعے عوام تک معلومات پہنچائے گا۔
اجلاس میں خواتین زرعی مزدوروں کے تحفظ سے متعلق اقدامات کی بھی منظوری دی گئی جس کا مقصد دیہی علاقوں میں کام کرنے والی خواتین کو قانونی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ان اقدامات کے تحت بہتر ورکنگ کنڈیشنز، حقوق کے تحفظ اور سہولتوں کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف شہری سلامتی کو بہتر بنائے گا بلکہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے شہری پھیلاؤ کے تناظر میں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ اگر اس منصوبے پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا گیا تو سندھ کا ایمرجنسی رسپانس نظام ملک کے جدید ترین نظاموں میں شمار ہو سکتا ہے