سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پاکستان میں مختلف شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے ملکی معیشت میں سرگرمی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کا اشارہ ملتا ہے۔ توانائی، لاجسٹکس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت سمیت متعدد شعبے اس سرمایہ کاری کے اہم مراکز بنے ہوئے ہیں، جہاں غیر ملکی کمپنیاں مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کاروباری سرگرمیاں بڑھا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران 79 نئی غیر ملکی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے آپریشنز شروع کیے جبکہ اسی عرصے میں کلیدی شعبوں میں 40.7 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔ مزید برآں 61 غیر ملکی کمپنیوں نے مقامی اداروں کے ساتھ شیئر ہولڈنگ ٹرانزیکشنز بھی کیں، جن میں بعض عالمی کارپوریٹ تنظیم نو کے نتیجے میں سامنے آئیں۔
توانائی کے شعبے میں سعودی عرب، یورپ اور دیگر خطوں کی بڑی کمپنیوں نے اپنی موجودگی کو مزید وسعت دی۔ اسی طرح لاجسٹکس کے شعبے میں بین الاقوامی کمپنیوں کی شمولیت سے سپلائی چین اور تجارتی سہولتوں میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ ڈیجیٹل اور ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں بھی عالمی کمپنیوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے، جس سے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کو فروغ ملنے کا امکان ہے۔
ادویہ سازی کے شعبے میں بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے مقامی اداروں کے ساتھ شراکت داری اور اثاثوں کی منتقلی کا مقصد مقامی پیداوار کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے، جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع برقرار رہتے ہیں بلکہ صحت کے شعبے میں خود انحصاری بھی بڑھتی ہے۔
زراعت اور خوراک کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ شعبہ برآمدات اور دیہی معیشت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں عالمی کمپنیوں کی دلچسپی سے مستقبل میں برآمدات اور ریونیو میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔
الیکٹرک وہیکل انڈسٹری میں نئی عالمی کمپنیوں کی آمد پاکستان میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کی جانب اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔ انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی شراکت داری کے باعث ملک میں صنعتی اور تجارتی سہولتوں میں بہتری متوقع ہے۔
موجودہ سرمایہ کار بھی اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کر رہے ہیں جس سے مالیاتی شعبے اور ڈیجیٹل بینکنگ کو فروغ مل رہا ہے۔ نئے ڈیجیٹل بینکوں کے قیام اور ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری سے مالیاتی شمولیت بڑھنے کی توقع ہے۔
اسی دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے نے صنعتی تعاون کو مزید تیز کر دیا ہے، جس کے تحت اربوں ڈالر کے بزنس ٹو بزنس معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں مختلف شعبوں میں طے پائی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں 1,157 غیر ملکی کمپنیاں رجسٹرڈ اور فعال ہیں جبکہ گزشتہ تین برسوں میں صرف 19 کمپنیوں نے مارکیٹ چھوڑ ی، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق اگر پالیسیوں میں تسلسل اور کاروباری ماحول میں بہتری برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے روزگار، برآمدات اور معاشی استحکام کو تقویت ملے گ